ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلور: مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام مشاعرہ جشن آزادی کا انعقاد، ملک کے مشہور شعراء کی شرکت

بنگلور: مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام مشاعرہ جشن آزادی کا انعقاد، ملک کے مشہور شعراء کی شرکت

Tue, 17 Aug 2021 00:16:51    S.O. News Service

بنگلورو، 17/ اگست (پریس ریلیز)  مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام یوم آزادی کی مناسبت سے ایک عظیم الشان آن لائن مشاعرہ جشن آزادی  حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب (مہتمم جامعہ اسلامیہ تعلیم القرآن بنگلور و صدر جمعیۃ علماء کرناٹک) کی صدارت اور مرکز کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی میں منعقد ہوا۔ جسکی نظامت  مدرسہ تعلیم القرآن شاخ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے صدر المدرسین مولانا غفران احمد ندوی نے انجام دئے۔

 مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی اس مشاعرے کے کنوینر رہے اور مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان خاص طور پر شریک تھے۔ مشاعرے کا آغاز قاری محمد ثاقب قاسمی معروفی کی تلاوت اور قاری بدرعالم چمپارنی کے نعتیہ اشعار سے ہوا۔ مشاعرہ جشن آزادی میں ملک کے مشہور و معروف شعراء کرام نے شرکت کی۔ خصوصاً مولانا سجاد اعظم قاسمی لکھیم پوری، قاری اشفاق بہرائچی، قاری وجیہ الدین جلال کبیرنگری، مولانا فیصل میرٹھی، قاری فردوس کوثر جھارکھنڈ، قاری بدرعالم چمپارنی، وغیرہ نے اس عظیم الشان آن لائن مشاعرہئ جشن آزادی میں شرکت فرماکر سامعین کو اپنے کلام سے محظوظ فرمایا۔ بالخصوص جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار،اپنے بزرگوں کی جد وجہد، دارالعلوم دیوبند اور اسکے اکابرین کی قربانیاں،حب الوطنی اور قومی یکجہتی پر بہترین اشعار پڑھے۔

اس موقع پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے مرکز کے سرپرست مفتی افتخار احمد قاسمی نے فرمایا کہ شاعری انسانی جذبات کی عکاسی کرنے کا ایک خوبصورت اور نہایت طاقتور ذریعہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ نبیوں اور رسولوں کی باتیں چونکہ وحی خداوندی والہامات ربانی پہ مبنی ہوتی ہیں؛ جبکہ شعراء کی باتیں شعور وآگہی، تخیل، پروازیِ فکر اور بسا اوقات حد درجہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتی ہیں؛ اس لیے شعر وشاعری نبیوں اور رسولوں کے مقام نبوت کی شایان شان قرار تو نہیں دی گئی، لیکن رسولوں سے مطلقاً اس کی نفی نہیں کی گئی، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگرچہ یہ فن عطاء نہیں ہوا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے زبان مبارک سے مختلف مواقع پر بیساختہ اشعار جاری فرمایا۔ اس سے  معلوم ہوا کہ شعر و شاعری کہنا جائز ہے کیونکہ اگر شعر کہنا صحیح نہیں ہوتا تو آپ ﷺ کی زبان مبارک سے شعر کبھی جاری نہیں ہوتا۔

پروگرام کے اختتام سے قبل مرکز کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے صدر مشاعرہ، شعراء کرام، مہمانان خصوصی اور آنے والے سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اور صدر مشاعرہ مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب کی دعا سے  مشاعرہ  اختتام پذیر ہوا۔


Share: